11292021Headline:
wilma rides a cock. spankwire
why not try here brazzers exhibitionists masturbating outside.

پنڈورا کاغذات، مسترد جمہوریہ کا ثبوت۔ عبدالقیوم خان کنڈی

پنڈورا کاغذات نے میری ان تمام باتوں کو درست قرار دے دیا جو میں پچھلے ڈھائی سال سے آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ پہلی بات جو ثابت ہوئی کے موجودہ جمہوریہ ناکام اور ناکارہ ہو چکی ہے اسی لئے امیر کاروباری، جنرل اور سیاستدان اپنا سرمایہ دوسرے ملکوں میں منتقل کر رہے ہیں ان لوگوں کو یقین نہیں ہے کہ یہ ملک زیادہ دیر چل سکتا ہے۔ دوسری بات جو ثابت ہوئی کے موجودہ جمہوریہ کی ناکامی کی ذمہ داری موجودہ سیاستدانوں اور اسٹبلشمنٹ پر ہے۔ اگر یہ تمام لوگ اس ملک کی کامیابی میں سنجیدہ ہوتے تو اپنا سرمایہ اسی ملک میں لگاتے اور اسے کامیاب کرنے کی کوشش کرتے۔ تیسری بات جو ثابت ہوئی وہ یہ کے تمام اشرافیہ مل کر اس ملک کو کھا رہی ہے۔ کسی غریب آدمی کی آف شور کمپنی بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ صرف امیر لوگوں کی ضرورت ہے۔ چوتھی بات جو ثابت ہوئی وہ یہ کے ریاستی ادارے اشرافیہ کے طابع ہیں اور ان کے جرائم کو پکڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ پانچویں اور آخری بات جو ثابت ہوئی  وہ یہ کے عمران خان ایک جعلی انقلابی ہیں ایک طرف ان تمام سے چندہ لیتے رہے اور دوسری طرف قوم کو دھوکہ کے وہ کرپشن کو روکینگے۔

ایک طرف اشرافیہ کی آف شور کمپنیوں کی لسٹیں آ رہی ہیں دوسری طرف میاں نواز شریف قوم کو سمجھا رہے ہیں مفاہمت ہو یا مزاحمت ڈیل ہونی چاہئے۔ یعنی ووٹ کو عزت دو دراصل ایک بہانہ ہے اصل مقصد حکمرانی میں آنا ہے۔ یعنی اس قوم اور اس ملک کا مستقبل بدلنے والا کوئی نہیں ہے۔ شاید یہی موقع ہے کہ عوام کو سمجھنا چاہئے کے ۲% اشرافیہ اس ملک کے تمام وسائل پر قابض ہے اور صرف اپنے مفاد میں کام کرتی ہے۔ ٹیکس اور قرضہ عوام کے ذمہ ہے اور مفادات صرف اشرافیہ کے پورے ہوتے ہیں۔ یہ مذاق اب زیادہ نہیں چل سکتا۔ 

افغانستان میں افغان طالبان اسلام کے نام پر ضرور کھڑے ہوئے مگر ان کا اصل نشانہ کرپٹ حکمران اشرافیہ تھی۔ انہوں نے جنگ صرف بیرونی قوتوں کے خلاف نہیں لڑی بلکہ ملک کے اندر موجود استحصالی طبقے بھی ان کے نشانہ پر رہے۔ اسوقت ان کی سیاسی سوچ ملک کو استحکام نہیں دے سکی مگر عوام نے اس جدوجہد میں ان کی بھرپور مدد کی۔ افغان طالبان کا امتحان اب شروع ہوا ہے۔ 

مجھے پاکستان میں بھی طالبان جیسی تحریک ابھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے جو کرپٹ اشرافیہ کو کھلے عام چوکوں پر پھانسی دینگے۔ یہ صورتحال ملک کیلئے انتہائی خراب ہوگی مگر قصور اشرافیہ کا ہی ہے۔ پچھلے دو سال سے مسلسل درخواست کر رہا ہوں کے ہوش کے ناخن لیں اور قومی سیاسی مزاکرات میں نظام کی درستگی کی طرف بڑھیں۔ مگر تمام سیاستدان اور اسٹبلشمنٹ صرف یہی چاہتے ہیں کہ ان کی آپس میں ڈیل ہو جائے اور مل بیٹھ کر اس ملک کو کھائیں مگر وہ وقت اب گزر چکا ہے۔ اللہ ہمیں عقل سلیم استعمال کرنے کی صلاحیت دے۔ 

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles

hamster sex