10152021Headline:
wilma rides a cock. spankwire
why not try here brazzers exhibitionists masturbating outside.

کرکٹ اور ملک کی بدنامی۔ عبدالقیوم خان کنڈی

ہم ایسا بدقسمت ملک ہیں کے نہ آگے بڑھ رہے ہیں نہ پیچھے جا رہے ہیں بلکہ مدتوں سے ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں۔ کوئی واقعہ ہو جائے تو خوشی کے شادیانے بجانے لگتے ہیں کہ اس ملک کی تقدیر بدلنے والی ہے اور ان تمام نشانیوں کو رد کر دیتے ہیں جو اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔ آپ کی خدمت میں پچھلے ایک سال میں کئی دفعہ عرض کیا تھا کے دنیا کا کوئی لیڈر پاکستان آنے کو تیار نہیں ہے اور انہوں نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہے اور صرف گدھ قسم کے سرمایہ دار ہماری طرف آرہے ہیں جو چند سالوں میں سرمایہ ڈبل کر کے نکل جاتے ہیں۔ 

آپ کی خدمت میں یہ بھی عرض کیا تھا کے موجودہ نااہل اور نالائق حکمران بات پہلے کرتے ہیں اور سوچتے بعد میں ہیں۔ ان کے بیانات نے جتنا نقصان پہنچایا ہے شائد ہی کسی اور چیز نے دیا ہو۔ اب وزیراعظم نے خود کہا ہے کہ فوج کے اندر ہی دہشتگرد ہیں جنہوں نے جرنل مشرف پر حملہ کیا۔ پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ نیویارک جا کر ملک کی بدنامی کا سامان کر رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں کوئی صرف کال بھی کر دے تو سوشل میڈیا پر خوشی سے بھرپور کمپئیں شروع ہو جاتی ہے جو وزیراعظم کے عہدے کے سراسر منافی ہے۔ خارجہ پالیسی سے متعلق جو مراسلے میں نے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو بھیجے ان میں بار بار یہ سوال اٹھایا کے یہ کسطرح ممکن ہے کے وہ ممالک جو ہمارے ایک ضلع سے بھی چھوٹے ہیں ہمارے منہ پر طمانچہ مار کر چلے جاتے ہی اور ہم منہ بسور کر بیٹھے رہتے ہیں۔ اس سے بڑی سفارتی ناکامی اور کیا ہو سکتی ہے۔ 

اب نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے کی میچ شروع ہونے سے چند لمحے پہلے منسوخی کو لیں۔ مکمل معلومات ہمارے سامنے نہیں ہیں مگر بہت سے ایسے حقائق ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ باقائدہ پلان کے تحت یہ کام کیا گیا۔ مگر ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کے ہم دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اگر اپنی غلطیوں پر دھیان دیں تو ہمارا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ نے جو کیا وہ کیا مگر ہماری سفارتی، انٹیلیجنس اور انتظامی ناکامی بالکل عیاں ہے۔ حقائق ابھی سامنے نہیں آئے مگر سوالات ہیں جن کے جوابات دینے سے حکومت کترا رہی ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ جب خطرہ سے آگاہی ہوئی تو نیوزی لینڈ حکومت نے وہاں موجود ہمارے سفیر کو سب سے پہلے اطلاع کیوں نہ دی؟ اگر اطلاع دی گئی تو ہم نے کیا اقدامات اٹھائے؟ ہماری انٹیلجنس اور نیوزی لینڈ کی انٹیلیجنس کے درمیان کیا رابطہ ہوا؟ اگر ہوا تو اس کا کیا نتیجہ نکلا۔

ہمارے نااہل اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار وزیر داخلہ جو ریلوے تباہ کرنے کے بعد اب وزارت داخلہ کی تباہی میں لگے ہیں ان کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو ریاستی سربراہ کی سطح کی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ ثبوت کے طور پر سوشل میڈیا پر تصویریں پھیلائی گئیں جس میں بکتر بند گاڑیاں، جدید اسلحے سے لیس فوجی کمانڈو درجنوں گاڑیوں میں کرکٹ کھلاڑیوں کی بس کے آگے پیچھے چل رہے ہیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے پاکستان میں جنگ ہو رہی ہے اور کسی بھی وقت حملہ ہو سکتا ہے۔ مجھے تو ایسا محسوس ہوا کسی اور نے نہیں بلکہ کھلاڑیوں نے خود اپنی حکومت کو کہا کے وہ اس خوف میں نہیں کھیل سکتے۔ ہم جو کام کرتے ہیں بھونڈے طریقے سے کرتے ہیں اور ہمیں یہ بھی احساس نہیں کے بہترین سکیورٹی وہ ہے جو نظر نہ آ رہی ہو۔ 

جب نیوزی لینڈ نے اپنا دورہ منسوخ کیا اسی وقت میں نے ٹوئیٹ کیا کے یہ واحد عمل نہیں ہے بلکہ اس کے بعد مزید ایسے فیصلے ہونگے جو پاکستان کی بدنامی کا باعث بنینگے۔ میں نے یہ بھی درخواست کی کے جاگیں اور سفارتی معاملات کو بہتر کریں۔ چند ہی دن بعد انگلستان نے بھی اپنا دورہ منسوخ کر دیا۔ اب آپ یہ بتائیں کے ان اعلانات کے بعد دنیا کا کونسا سرمایہ دار ہوگا جو پاکستان آنے میں دلچسپی لے گا۔ مگر ہم اب بھی نہیں جا گے۔ اسٹبلشمنٹ کے پسندیدہ یوٹیوبرز اس قوم کو فیک نیوز سے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سب اچھا ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سارا ملبہ دوسروں پر ڈال کر نااہل اور نالائق عہدوں کے مزے لیتے رہینگے۔  

پاکستان کے تمام محکموں اور اہم عہدوں پر اسوقت ایسے لوگوں کا قبضہ ہے جو صلاحیت کی بنیاد پر وہاں نہیں پہنچے بلکہ تعلقات، ڈیلوں اور پیسے کے زور پر انہیں یہ عہدے ملے۔ یہ ناکارہ جمہوریہ اس ملک کی تباہی کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ انتہائ ضروری ہے کہ ہماری تجویز کردہ گول میز کانفرنس میں قومی سیاسی مزاکرات کئے جائیں اور ایک عوامی جمہوریہ کی بنیاد ڈالی جائے۔ جتنا ہم دیر کرینگے اتنا ہی مزید تباہی اس ملک کا مقدر ہوگی۔ 

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles

hamster sex