09292021Headline:
wilma rides a cock. spankwire
why not try here brazzers exhibitionists masturbating outside.

موجودہ مارشل لاء اور جمہوریت کی بحالی۔ عبدالقیوم خان کنڈی

متعدد بار آپکی خدمت میں یہ درخواست کی ہے کہ ہم تضادات سے بھرپور معاشرہ ہیں۔ شاید اسی لئے ہمیں تضادات سے بھرپور حکومت بھی قابل قبول ہے اور یوٹرن لینے والے کوبھی ہم بڑا لیڈر سمجھتے ہیں۔ میں موجودہ دور کو مارشل لاء کا دور سمجھتا ہوں۔ میں جب یہ کہتا ہوں تو کئی دوست اس پر ناراض ہو جاتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ اسوقت ملک میں پارلیمان بھی ہے اور ایک سویلین وزیراعظم بھی۔ مگر مجھے یہ دلائل قبول نہیں ہیں اسلئے کے مارشل لاء کے آنے کے بعد ہر مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو سویلین چہروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے نام پر سویلین کو شامل کیا مگر کوئی یہ نہیں کہتا کے وہ جمہوری دور تھا۔ ہر آدمی اسے تاریخ میں مارشل لاء ہی مانتا ہے۔ ضیاء الحق نے غیر جماعتی الیکشن کرائے اور جونیجو کو وزیراعظم بھی بنایا مگر تمام مورخ اسے مارشل لاء کا دور ہی سمجھتے ہیں جو بینظیر بھٹو کے الیکشن پر ختم ہوا۔ جنرل مشرف نے بھی ۲۰۰۲ میں ایک پارلیمان بنائی مگر وہ مارشل لاء کا حصہ ہی تصور ہوتی رہی جبتک ایک نسبتا آزاد الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز ایکدفعہ پھر جمہوری حکومتوں کا حصہ نہ بن گئے۔ 

ہمارے جرنیلوں کا زیادہ تر وقت سیاسی طاقت کے حصول میں گزرتا ہے اور دفاع کا کام ثانوی نوعیت کا ہے۔ خدا نہ کرے کوئی جنگ ہو مگر مجھے اسوقت اپنے جرنیلوں کی جنگی صلاحیت پر اتنا اعتماد نہیں ہے اسلئے کے ان کا ذہن ہر وقت حکمرانی کے شوق میں مبتلا رہتا ہے۔ آپ اگر ماضی کے مارشل لاء پر نظر ڈالیں تو ہر مارشل لاء میں جمہوری حکومت کی فراغت اور پھر فوجی جرنیلوں کی طاقت پر مکمل دسترس۔ موجودہ مارشل لاء بھی اسی طرح آیا۔ پہلے جمہوری طور پر منتخب بلوچستان اور مرکزی حکومت کا خاتمہ اس کے بعد ایک دھاندلی شدہ الیکشن سے جرنیلوں کی مرضی کے لوگ پارلیمان میں۔ نام سویلین کا مگر طاقت کے تمام مراکز فوج کے قبضہ میں۔ 

ہر مارشل لاء میں میڈیا اور ججوں پر کنٹرول جبکہ تمام کابینہ ان لوگوں پر مشتمل جو جرنیلوں کے پسندیدہ تصور ہوتے ہیں۔ فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی، فرغ نسیم، غلام سرور خان، شیخ رشید، شوکت ترین، اسد عمر، فیصل واوڈا، علی آمین وغیرہ وہ تمام وزیر ہیں جو گیٹ نمبر چار کی وجہ سے الیکشن جیتے اور وزیر بنے۔ ہر مارشل لاء کی طرح اسوقت بھی یہ دعوے ہیں کہ ملک بہت ترقی کر رہا ہے اور خارجہ پالیسی بھی بہت کامیاب ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جنرل قمر باجوہ نے ۶ ستمبر کو جو تقریر کی وہ ہر طرح سے ایک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی تقریر تھی۔ جمہوریت کی مضبوطی اورکامیابی کا وہی وعدہ جو جنرل ضیاء اور مشرف نے بھی کیا تھا۔ وہی اندرونی اور بیرونی قوتوں کے خلاف کاروائی کا ارادہ۔ جبکہ کسی نے اندرونی دشمن کی ذمہ داری فوج کو نہیں دی مگر جو مارشل لاء کے خلاف بات کرے وہ ملک کیلئے خطرہ ہے۔ وہی ففتھ جنریشن وار کے نام پر آوازیں دبانے کی کوشش کا تۂیہ جس پر فواد چوہدری نے خوشی خوشی ٹویٹر کیا حاضر جناب۔ 

پاکستان میں مارشل لاء کی اوسط عمر ۱۰ سال ہے اسلئے اگلا الیکشن بھی صرف دکھاوے کا ہوگا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کے موجودہ لاڈلا نااہلی اور نالائقی کے اس معیار پر ہے کہ کسی بہتر لاڈلے کی تلاش ہے۔ بلاول روز یہ دعوی کر رہے ہیں کہ وہ زیادہ قابل لاڈلا ہونگے اور اس کیلئے اپنے نانا کی طرح جنرل باجوہ کو ڈیڈی کہنے کو تیار ہیں۔ شہباز شریف بھی لائین میں ہیں مگر مسلم لیگ نواز کے سرکردہ رہنما میاں جاوید لطیف کے مطابق نواز شریف ہی چوتھی دفعہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ اب یہ معاملہ ڈیل کے تحت ہوگا یا ووٹ کی عزت کے مطابق یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ 

اس ملک میں دائروں کا سفر ختم کرنا ضروری ہے۔ اس کیلئے قومی سیاسی مزاکرات ضروری ہیں۔ اسی مقصد کیلئے ہم نے گول میز کانفرنس کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے بغیر جو الیکشن ہونگے وہ اس ملک کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کرینگے۔ 

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles

hamster sex