10162021Headline:
wilma rides a cock. spankwire
why not try here brazzers exhibitionists masturbating outside.

صدر عارف علوی کا خطاب اور کنٹونمنٹ الیکشن۔ عبدالقیوم خان کنڈی

چند ہی دن پہلے جو پیغام آپکو بھیجا اس میں عرض کیا تھا کے پاکستان میں اسوقت ایک مارشل لاء ہے۔ کل پارلیمانی سال کے پہلے پارلیمانی اجلاس میں اس کی تصدیق ہو گئی جب صحافیوں کو پارلیمان کی کاروائی عوام تک پہنچانے سے روک دیا گیا۔ اکثر صحافیوں نے سوشل میڈیا پر رائے دی کے کبھی فوجی مارشل لاء میں بھی ایسا نہیں ہوا۔ انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اسٹبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سویلین مارشل لاء ہی بہتر ہے یعنی چہرہ جمہوری اور سویلین ہو مگر اصل میں مارشل لاء ہو۔ آپ مت بھولیں کے پاکستان کے پہلے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہیں ان کی پارٹی جمہوریت کا باپ سمجھتی ہے۔ فرق یہ ہے کے موجودہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مکمل کٹھ پتلی ہیں جبکہ بھٹو کے پاس کچھ سیاسی اختیار تھا۔ 

پارلیمان کے پہلے اجلاس سے صدر عارف علوی نے خطاب کیا جن کی تین سال کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ایسا لگتا ہے کہ ڈیل یہ ہوئی ہے کہ ہر غلط اور غیر آئینی کام پر انگوٹھا لگائیں۔ آپ کو یاد ہے انہوں نے جسٹس فائز عیسی کے خلاف ایک غیر آئینی ریفرنس داخل کیا جو بعد میں مسترد کر دیا گیا۔ آج یہ قوم کو جمہوریت اور فیک نیوز پر درس دے رہے ہیں مگر یہ قوم نہیں بھولی کے پینتیس پنکچر ایک فیک نیوز تھی اور پی ٹی وی پر حملے کے بعد انہوں نے خوشی خوشی موجودہ سویلین آمر کو فون کر کے مبارکباد دی۔ اسی وقت سب کو پتہ ہونا چاہے تھا جسطرح پی ٹی وی پر حملہ ہوا اسی طرح حکومت میں آکر یہ میڈیا پر حملہ کرینگے۔

دوسرا واقعہ جو اس ہفتہ ہوا وہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہیں۔ سب سے پہلے تو تمام جیتنے والوں کو مبارکباد۔ نتائج آنے کے بعد بڑے بڑے تجزیہ نگار سورما ان نتائج میں دانش کے نقطہ تلاش کر رہے ہیں اور اگلے قومی الیکشن کے نتائج مرتب کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ غیر منطقی بات ہو نہیں سکتی۔ پہلی بات یہ کے کسی ایک صوبے میں بھی بلدیاتی نظام نہیں ہے۔ ایسی صورت میں یہ کنٹونمنٹ کے ارکان کیا کمال کرینگے۔ یہ بھی افسوس کا مقام ہے کے فوجی علاقوں میں تو بلدیاتی نظام قائم کرنے میں تمام پارٹیوں کی دلچسپی ہے اور سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مگر سویلین ضلعوں میں بلدیاتی ادارے بنانے میں کسی پارٹی کو دلچسپی نہیں ہے۔ اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ  یہ ملک تو بنا ہی چند کیلئے ہے باقی سب کا کام ہے ان چند کی ساری زندگی خاموشی سے خدمت کریں۔ 

سیاسی طور پر مسلم لیگ نواز اس بے معنی الیکشن میں کامیابی پر ملک گیر خوشی کی تحریک چلا رہی ہے چونکہ ووٹ کو عزت مل چکی ہے۔ اب پی ڈی ایم کی ملک گیر احتجاجی تحریک کس منہ سے چلا ئنگے۔ سورما تجزیہ نگار ایکدفعہ پھر ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ مزاحمت سے مفاہمت کا راستہ نکل رہا ہے۔ نواز شریف آج ہماری اس بات سے متفق ہیں کہ آزادی کی تحریک ابھی جاری ہے مگر عوام انہیں انقلابی لیڈر ماننے کو تیار نہیں ہے جو ان کیلئے سوچنے کی بات ہے۔ پی ٹی آئی، مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی سے زیادہ بڑی جماعت آزاد امیدواروں کی ہے۔ غیر جمہوری اور بے نظریہ سیاسی پارٹیوں کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ 

تمام پارٹیاں جس لیبارٹری سے بن کے نکلی ہیں وہ اس ملک کی سب سے پرانی اور بڑی سیاسی پارٹی ہے۔ ان کی سیاسی چالوں میں اس کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ جب جرنل الیکشن ہوگا جس میں حقیقی اختیاری عہدوں کیلئے دوڑ ہوگی تو لیبارٹری کے تیار کردہ لاڈلے ہی جیتنگے۔ اگر قومی سیاسی مزاکرات کر کے ہم نے اس ناکارہ نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کی تو مجھے اگلے الیکشن میں تباہی ہی تباہی نظر آرہی ہے۔  مجھے ان پارٹیوں سے کچھ زیادہ امید نہیں ہے اسلئے کے چھوٹی چھوٹی بے معنی کامیابیوں پر یہ ڈیل کرنے کو تیار ہیں۔ عوام کو اپنے حقوق کیلئے کھڑا ہونا پڑے گا اور تمام پارٹیوں کو مجبور کرنا پڑے گا کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ 

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles

hamster sex