10152021Headline:
wilma rides a cock. spankwire
why not try here brazzers exhibitionists masturbating outside.

صاف اور شفاف الیکشن کا خواب۔ عبدالقیوم خان کنڈی

آجکل ایکدفعہ پھر حکومت اور حزب اختلاف صاف اور شفاف الیکشن پر بحث کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں میرا موقف یہ ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن دیوانے کے خواب کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کی توجیہات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ 

ہمارے ملک میں الیکشن دراصل قبیلوں کے درمیان ایک جنگ کی صورت اختیار کر جاتا ہے جس میں نتیجہ زندگی اور موت کا مقابلہ بن جاتا ہے۔ ہم سب کو یاد ہے موجودہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے اہم ارکان چند سال پہلے کنٹینر پر چڑھ کر عوام کو کہہ رہے تھے بغاوت کر دو۔ ٹیکس نہ دو، بل جلا دو اور مارو یا مرجاؤ۔ حالانکہ یہ پارلیمان میں حزب اختلاف کا کردار ادا کر سکتے تھے۔ اب حکومت میں آنے کے بعد بھی ان کا حزب اختلاف سے وہی کنٹینر والا رویہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف نواز قبیلے کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ انہیں بھی کھل کر قبائلی کھیل کھیلنے دیا جائے۔ اب ان کا موقف یہ ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ آخر الیکشن زندگی اور موت کا معاملہ کیوں بن جاتا ہے جس میں ہار کسی کو منظور نہیں ہے؟ اس کا تعلق ہمارے ملک میں آئین اور قانون کی کمزوری کے علاوہ ریاستی اداروں کا سیاسی ہونا بھی ہے۔ ہاری ہوئی پارٹی کو سچے اور جھوٹے مقدمات کا سامان کرنا پڑتا ہے۔ جیلوں میں جانا پڑتا ہے اور میڈیا میں کسی کو ان کی بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کے کرپٹ سیاستدان کے خلاف کاروائی نہ ہو بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کے جو جیتا ہوا اور حکومت میں ہو اس پر ہلکا ہاتھ اور جو ہارا ہوا ہو اس پر کاری ضرب۔ ہم آجکل افغانوں کو مشورہ دے رہے ہیں کے ماضی بھلا کر سب میز پر بیٹھ کر معاملات کو سنبھالیں جبکہ ہمارا اپنا حال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی تعیناتی کیلئے وزیراعظم حزب اختلاف سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ وزیر داخلہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ جلد سب جیل میں ہونگے۔ ہم دو سال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک گول میز کانفرنس میں قومی سیاسی مزاکرات ہوں۔ افغانوں کیلئے جو نسخہ ہے وہ ہمیں اپنے لئے پسند نہیں۔ 

دوسرا معاملہ یہ ہے کہ کسی بھی الیکشن میں ریٹرنگ آفیسر، پریزائیڈنگ آفیسر، پولنگ ایجنٹ وغیرہ ملا کر تقریباً ۳۰ سے ۴۰ لاکھ لوگ انتظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر یہ تمام لوگ اس کوشش میں ہوں کے الیکشن کا نتیجہ دھاندلی کے بعد کسی خاص کے حق میں آئے تو صاف اور شفاف الیکشن کیسے ہو سکتا ہے۔ موجودہ وزیراعظم جنہیں سپریم کورٹ صادق اور امین قرار دے چکی ہے ان کے اہم وزراء بیلٹ بیلٹ باکس چراتے ہوئے رنگے ہاتھوں  پکڑے گئے۔ ابھی پچھلے دنوں آزاد کشمیر الیکشن میں کھلے عام ہیسے دے کر ووٹ خریدتے پکڑے گئے۔ سینٹ الیکشن میں خفیہ کیمرے لگائے گئے مگر صادق اور امین وزیر اعظم انہیں دھاندلی کر کے الیکشن جیتتے ہوئے شاباش دیتے رہے۔ ان کی پارٹی نے کسی ایک کے خلاف بھی کاروائی نہیں کی اور مسلسل جھوٹ بولنے والے ابھی تک صادق اور امین ہیں۔ مسلم لیگ نواز بھی کھل کر کھیلنے کا حق مانگ رہی ہے۔ پیپلز پار ٹی جو جمہوریت کی ماں ہے انہوں نے جسطرح سینٹ، سندھ اور بلوچستان میں دھاندلیوں کے ذریعہ حکومتیں گرائی اور بنائی ہیں اس پر سرزنش کے بجائے ان کے چئرمین ایک زرداری سب پر بھاری ہیں۔ غرض یہ کے کوئی ایک پارٹی بھی اپنے کارکنان کی اخلاقی تربیت نہیں کرتی کے انہیں الیکشن دھاندلی سے روکیں بلکہ انہیں دھاندلی کی تربیت دی جاتی ہی۔ امیدوار بھی وہ الیکٹیبل تصور کئے جاتے ہیں جو اپنے حق میں دھاندلی کرا سکیں۔ 

اسٹبلشمنٹ جو اپنے آپ کو اس ملک کا اصل مالک اور محافظ سمجھتی ہے الیکشن دھاندلی میں سب سے آگے ہے۔ آر ٹی ایس بند ہونے سے لیکر امیدواروں کے کاغذات پاس یا مسترد کروانا سب ان کے کنٹرول میں ہے۔ ہر حال میں ان کا لاڈلا جیتنا چاہئے۔ پچھلے الیکشن میں جس حلقے سے میں نے الیکشن لڑا اس کے ریٹرنگ آفیسر ایک باریش اور سنت پر عمل کرنے والے جج تھے۔ ان سے میں نے ملاقات کی اور صرف اتنی درخواست کی کے کسی پریشر میں نہ آئیں اور صاف اور شفاف الیکشن کرائیں۔ مگر نتیجہ وہی جو ہمیشہ اس ملک کا مقدر ہے۔ سلیکٹرز کے پسندیدہ کے کاغذات جو رد ہونے چاہئے تھے منظو ہوئے۔ اس حلقہ میں سلیکٹڈ کے امیدوار واحد تھے جن کی جان کو خطرہ تھا ان کے آگے اور پیچھے رینجرز کی جیپیں ہوتی تھیں تاکہ پولیس، عوام اور مقامی انتظامیہ کو اچھی طرح سے پتہ چل جائے کس کو جتوانا ہے۔ الیکشن کا نتیجہ ۱۰ ہزار ووٹ ریجیکٹ ہوئے اور سات سو ووٹ سے لاڈلے کامیاب ہوئے۔ اب ایسے ماحول میں آپ کروالیں صاف اور شفاف الیکشن۔

اب موجودہ حکومت کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی طرف آتے ہیں۔ ایک ایسی پارٹی جو انجینرنگ اور دھاندلی کے نتیجہ میں حکومت میں آئی ہو اس پر اعتبار کیسے کیا جائے۔ دوسرا یہ کے ہم نے پارلیمان کے حلف کے فورا بعد مطالبے کیا تھا کے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو بتائے آر ٹی ایس کو بند کرانے والے کون تھے۔ مگر یہ مطالبہ نہ مانا گیا۔ آج ہم پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک کمیشن بنایا جائے جس میں سابقہ الیکشن کمشنر اور جج ہوں تاکہ پچھلے الیکشن میں آر ٹی ایس بندش پر تحقیق ہو۔ اس کمیشن کے ارکان ہمارے اور حکومت کی مشاورت سے طے ہوں۔ یہ کام چھ ماہ میں ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ہم الیکشن اصلاحات پر حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں اور دوسروں کو بھی قائل کرینگے۔ 

اصل حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نااہل اور نالائق حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ اب عوام انہیں ووٹ نہیں دیگی اسلئے اب انہیں وہ مشینیں چاہیںے جو ان کے حق میں ووٹ ڈالے بھی اور گنے بھی۔

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles

hamster sex