10262020Headline:
wilma rides a cock. spankwire
why not try here brazzers exhibitionists masturbating outside.

کراچی پر وفاق کا کنٹرول

چند ہفتے پہلے سماجی میڈیا پر اس طرح کے پیغامات پھیلائے گئے کے کراچی کو وفاقی علاقہ بنایا جائے اور صوبے کے کنٹرول سے باہر نکالا جائے۔ ان پیغامات کو ہم نے افواہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا مگر پھر یہی بحث کالموں اور ٹی وی ٹالک شوز تک پہنچ گئی جو اس بات کی نشانی تھی کے یہ حکومتی سوچ ہے اور انہی کی طرف سے شروع کی گئی ہے اس کے بعد اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ 

کراچی کو وفاق کا حصہ قرار دینے کیلئے دو دلائل دئے جا رہے ہیں۔ ایک تو یہ کے صوبائی اور بلدیاتی حکومتیں کراچی کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور دوسرا یہ کے کراچی آزادی سے پہلے بھی ایک جداگانہ حیثیت رکھتا تھا۔ اگر حکومتوں کی ناکامی ہی دلیل ہے تو اسطرح تو وفاق پچھلے دو سال سے مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے تو کیا وفاق کو بھی فوج کے حوالے کر دیں؟ ہر مسئلہ کے ٹھوس اور قابل عمل حل تلاش کرنے کے بجائے ہم اپنے مسائل کو مزید گھمبیر بناتے ہیں۔ کراچی ہی نہیں اندرون سندھ، خیبر پختونخواہ، سابقہ فاٹا، بلوچستان، اور جنونی پنجاب اس وقت غربت، تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محرومی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور یہ اس جمہوریہ کی ناکامی کا ثبوت ہے۔  

اپنی ٹیم اور کچھ دوسری سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد ہماری پالیسی پوزیشن یہ ہے کہ کراچی پر بندوق کی زور پر وفاقی کنٹرول کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ایک سیاسی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے قومی سیاسی مزاکرات میں زیرے بحث لانا چاہئے۔ ہم کئی سال سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کے موجودہ جمہوریہ عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک نئی عوامی جمہوریہ قائم کی جائے جس میں صوبوں کی تشکیل، این ایف سی، صوبوں کے اختیارات، بلدیاتی نظام کی تشکیل، صوبوں اور وفاق کے درمیان ٹیکسوں کا وصول جیسے اہم مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ 

میں ایکدفعہ پھر سیاسی پارٹیوں سے درخواست کرتا ہوں کے قومی سیاسی مزاکرات میں تاخیر ملکی سلامتی کیلئے ایک خطرہ ہے۔ خطے کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اگر ہم نے اپنے اندرونی مسائل حل نہیں کئے تو یہ اندرونی کمزوری دشمن کیلئے ہمیں نقصان پہنچانے کا سبب بنے گی۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ رکاوٹیں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے کھڑی کی ہیں کیونکہ یہ دونوں قومی سیاسی مزاکرات کو اپنی حکومتوں  کیلئے خطرہ سمجھتی ہیں۔ میری ان پارٹیوں کے کارکنوں سے درخواست ہے کہ اپنی پارٹیوں کو اس پر تیار کریں یہ ان کی قومی ذمہ داری ہے۔

عبدالقیوم خان کنڈی
نئی عوامی جمہوریہ کی تحریک

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles

hamster sex