07202019Headline:

جسٹس فائیز کے خلاف درخواست۔ عبدالقیوم خان کنڈی

عید کے دوسرے دن چھ فوجی جوانوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا- میں دعاگو ہوں کے خدا ان کی شہادت قبول کرے اور ان کے درجات بلند کرے۔ میں ان کے اہلے خانہ کے دکھ میں بھی برابر کا شریک ہوں۔

دنیا میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جہاں فوج سیاست میں مداخلت کرے اور اس ملک نے ترقی کی ہو۔ بلکے تمام سیاست کے سائنسدان، محقق اور مورخ اس بات پر متفق ہیں کے فوج کے سیاست میں حصہ لینے سے ملک کی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ جنرل باجوۂ کے ادارے سے منسلک لوگوں کو کئئ دفعہ یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کے فوج کو سیاست سے دور رکھیں مگر انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ تمام شواہد اور حقائق سامنے رکھنے کے بعد بھی وہ اس بات پر قائل نہیں ہیں کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے ان کی نظر میں دنیا بھر کی سوچ اور تحقیق غلط ہے اور ان کی ادارتی سوچ ٹھیک ہے۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیں پچھلے ساٹھ سال سے فوج سیاست میں ملوث ہے کیا آج ہم یہ کہہ سکتے ہیں پاکستان سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر ایک مضبوط ملک ہے؟ کچھ کا خیال یہ ہے کہ ان کی سیاست میں عمل دخل پر اعتراض کر کے میں فوج دشمنی کا مرتکب ہو رہا ہوں۔ میں ان سے ہمیشہ یہی پوچھتا ہوں کے کوئی بھی شخص جو عقل سلیم رکھتا ہو وہ اپنی فوج کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے۔ مگر شاید یہ بات ان کو سمجھانا کافی مشکل ہے۔

ہمارا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اہم قومی مسائل پر کھل کر بات نہیں کرتے اور ڈر ڈر کر اشاروں کنایوں میں بات کرتے ہیں- حقیقت یہی ہے کہ فوج ایک سیاسی پارٹی ہے جس کے اپنے حامی ہیں اور فوج کی اپنی پسند نہ پسند ہے- فوج کو ہمیشہ شریفالدین پیرزادہ جیسے ایکسپرٹ کی خدمات حاصل رہتی ہیں اور موجودہ حکومت میں بھی کئئ شریفالدین پیرزادہ موجود ہیں جو فوج کے سیاسی مفادات کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ فوج کے پاس ریٹائیرڈ فوجیوں کی ایک فوج ظفر موج ہے جو سارا دن وٹس ایپ پر فارورڈ ایس ریسیو ڈ میں لگے رہتے ہیں اور ان کے سہولت کار کچھ دانشور بھی ہیں جو اس کام میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ مجھے ان دانشوروں کے مدد کرنے پر کوئی اعتراض نہیں بلکے اعتراض اس بات پر ہے کہ کم از کم جھوٹ کے بجائے سچ پر مبنی فارورڈ کریں- تمام دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح فوج بھی یہ سمجھتی ہے کہ پاکستانی قوم سادہ لوح ہے اور اسے کسی ریوڑ کی طرح کسی بھی سمت ہانکا جا سکتا ہے- مگر باقی سیاسی پارٹیوں کی طرح وہ بھی غلطی پر ہیں- قوم سب جانتی اور سمجھتی ہے مگر برداشت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ایک دن یہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو سکتا ہے اور اس وقت سے پہلے ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔

جب ۲۰۱۸ کا الیکشن ختم ہوا تو سب سے پہلے میں نے اس بات کا اعلان کیا کہ موجودہ پرائم منسٹر الیلڈڈ نہیں بلکہ سلیکڈڈ ہے بعد میں پی ایم ایل این اور پی پی پی کے تجربہ کار سیاستدان بھی اس بات پر متفق ہو گئے جس پر میں ان کا مشکور ہوں۔ مگر اب میں ایک دُکھی دل کے ساتھ یہ اعلان کر رہا ہوں کے عمران خان سلیکڈڈ پرائم منسٹر نہیں ہے۔ سلیکڈڈ پرائم منسٹر ذوالفقار علی بھٹو، جونیجو اور نواز شریف تھے۔ انہوں نے سیاسی طاقت حاصل کرنے کا معاہدہ کیا مگر جب وہ سیٹ مل گئئ تو اپنے فیصلے کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں انہیں مات ہوئ اور انہیں سیاسی طاقت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ عمران خان سلیکڈڈ نہیں بلکے فرضی پرائم مسٹر ہے جو صرف پرائم منسٹر کی اداکاریکر رہا ہے مگر حقیقت میں اس کے پاس ایک بھی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ایک اداکار کے طور پر جو بھی اسکرپٹ ان کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے انہیں اسی پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ کابینہ بھی کسی اور نے بنا کر دی ہے اور فیصلے بھی کوئ اور کر رہا ہے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا کابینہ کے رکن فواد چوہدری خود اس بات کی شکایت کر رہے ہیں۔ جسٹس فایئز عیسی کا ریفرینس بھی کچھ اسی قسم کا معاملہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کامیاب سیاسی انجینرنگ کے بعد اب اگلا پروجیکٹ عدلیہ کی انجینرنگ کا ہے۔ کابینہ میں موجود شریفالدین پیرزادوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے کافی محنت سے یہ ریفرینس تیار کیا ہے۔ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو وہ ریفرینس کی حمایت میں جواز دے رہے ہیں کہ بلا تفریق احتساب ہوگا۔ اچھی بات ہے تو ابتداءً فیصل واوڈا اور خسرو بختیار سے کریں جن کے بیرونی جائدادوں پر کئئ سوالات کا کسی نے جواب نہیں دیا۔ جب یہ کام مکمل کر لیں تو ان کی بات میں زیادہ وزن پیدا ہوگا اور باقی اداروں کا احتساب بھی شوق سے کریں۔ مگر وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکے نیت ہی احتساب کی نہیں بلکے عدلیہ کی انجینرنگ ہے۔

جہاں تک جسٹس فائیز عیسی کا تعلق ہے تو وہ ریفرینس کی کاپی بھی مانگ رہے ہیں اور حساب دینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ مگر وٹس ایپ پر جو فارورڈ ایز ریسویڈ پھیلائیں جا رہی ہیں ان کا جائیداد چھپانے سے کوئی تعلق نہیں بلکے اس بات کی کوشش ہے کے عدلیہ انجینرنگ کا پروجیکٹ کامیابی سے مکمل ہو جائے اور اس کیلئے عوامی حمایت حاصل کی جائے۔

موجودہ جمہوریہ ایک بوسیدہ اور ناکام عمارت ہے۔ اب اس کی جگہ ایک نئی جمہوریہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی جمہوریہ جس میں انجینرنگ کے بجائے عوام کے مینڈیٹ پر فیصلے ہوں۔

thanks & regards

Abdul Quayyum Khan Kundi
facebook.com/Abdul.Quayyum.Kundi
twitter.com/aqkkundi

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles