07232019Headline:

ادھورا سچ ۔ عبدالقیوم خان کنڈی

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو پچھلے ستر سال دائروں میں گھوم رہی ہے اور یہ حالت ہے کہ نہ ہم آگے جارہے ہیں اور نہ پیچھے- حرکت میں بھی ہیں اور نہیں بھی۔ پچھلے دو دن میں جو کچھ ہوا اس سے ایسا لگتا ہے دائرے کا ایک چکر مکمل ہوا اور اب اگلے چکر کی تیاری ہے- قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کے ہاں این آر او لیا تو تھا مگر عدلیہ نے مسترد کردیا۔ تو بھائ ایک سیاستدان کے طور پر آپ کا اس میں کیا کمال تھا- آپ نے تو پورا کام کردیا تھا مگر چال چل نہ سکی۔ مریم نواز شریف کہتی ہیں موجودہ لاڈلا جلد لندن چلا جائے گا تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے ابھی پچھلے دنوں سابقہ لاڈلے نے درخواست دی تھی کہ مجھے لندن جانے کی اجازت دی جائے۔ اور ڈیل اور ڈھیل کی تلاش میں آپ کے چچا ابھی کچھ دن پہلے لوٹے ہیں۔ سابقہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس میں شیخ رشید بننے کی کوشش کی اور ایک نئے فتنے کے بیج بونے کی کوشش کی۔ عمران خان کے ایک بہت ہی لاڈلے وزیر نے اعلان کیا ہے کہ اگر پانچ ہزار لوگوں کو چوک میں لٹکا دیں تو یہ ملک ٹھیک ہو جائے گا چونکے وہ موجودہ لاڈلے ہیں اسلئے انہیں اعتماد ہے کہ ان کے بینک ڈیفالٹ کے قصے اور بیرونی ممالک اربوں کی جائدادیں کسی کو نظر نہیں آئیں گی اور وہ ان پانچ ہزار کی فہرست میں نہیں ہونگے۔عمران خان کی تمام الیکشن تحریک جھوٹ اور فریب کا پلندہ تھی جس سفیر علی صدیقی کو وہ کرپٹ اور نا تجربہ کار قرار دے رہے تھے اسی کو اپنی حکومت میں سفیر لگا دیا۔ انقلاب فرانس سے پہلے تمام عہدے برائے فروخت تھے اور عمرانی حکومت کا بھی کچھ یہی حال ہے۔ ان تمام واقعات کے بعد کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ ان تمام حضرات نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا ہے اور اب یہ اس قوم کے مسائل حل کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

ہم ستر سال سے دائروں میں اس لئے گھوم رہے ہیں کہ ہم آدھا سچ بولتے ہیں اور وہ بھی ایسا جس سے ہماری ذات کو تو فائدہ ہو مگر معاشرہ ہمیشہ نقصان میں رہے۔ مگر یہ حال صرف سیاستدانوں کا نہیں بلکے تمام معاشرہ اس میں برابر کا حصہ دار ہے- ابھی کل ہی کالے کوٹوں میں انتہائ پڑھے لکھے وکیل ایک جج صاحب کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ میں بھی ان جج صاحب کے خلاف درخواست کے بارے میں پریشان ہوں مگر یہی وکیل انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ برسوں تک ایک مقدمہ کی پیروی کرتے ہیں مگر کبھی اتنی شدومد سے اس بے انصافی کے خلاف ہڑتال نہیں کرتے۔ کیونکے اگر مقدمے جلدی حل ہونے لگے تو فیسوں کا کیا ہوگا- یہی ان کا آدھا سچ ہے۔

کاروباری لوگ اقتصادی صورتحال سے بہت پریشان ہیں مگر وہ حکومت سے یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم ٹیکس دیں گے بلکے یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ اور مراعات دیں۔ یعنی اقتصادیات صحیح کرنے کی ذمہ داری ان کی نہیں ہے بلکے یہ بوجھ کسی اور کو اٹھانا چاہیے۔

فوج کہتی ہے کہ ان کی عزت کے جائے اور ان کے ادارے پر کوئی کیچڑ نہ اچھالا جائے۔ مگر جب سیاست کی بات آتی ہے تو اس میں حصہ لینا ضروری ہے کیونکے آخر بندوق کی طاقت بھی تو دکھانی ہے۔ اسی لیے پی ٹی ایم کے بعد اب کالے کوٹوں والوں نے بھی اسی طرز کے نعرے لگائے ہیں۔ اور وہ جو پانچ ہزار لوگوں کو لٹکانے کی بات کر رہا ہے وہ الیکشن سے پہلے کھلے عام یہ کہہ رہا تھا کہ میری جیت کا وعدہ ہو چکا ہے اور نتیجہ وہی نکلا جس کا وعدہ تیسرے امپائر نے کیا تھا۔ مگر کوئی نامعلوم فرد اس کے پاس نہیں گیا کہ آپ کیوں فوج کو بدنام کر رہے ہیں آخر لاڈلا جو ٹھرا۔ سچ یہ ہے کہ جنرل باجوہ کی وردی پر اتنے داغ لگ چکے ہیں کے اب انہیں اسے اتار کر کسی اچھے ڈرائ کلینر کو بھجوا دینا چاہیے تاکہ اگر اسے اگلے تین سال بھی پہننا پڑے تو کم ازکم صاف ستھری تو ہو۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ مزدور سے لیکر صدر تک سب اپنے اپنے حصے کا آدھا سچ بول رہے ہیں۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کے اس صورتحال سے نکلنے کا حل کیا ہے۔ حل یہ ہے کہ موجودہ جمہوریہ جس کی بنیاد آدھے سچ پر ہے اسے اب ہمیں اسے مسترد کر کے ایک نئی جمہوریہ کی بنیاد رکھنا چاہیے جس کی پہلی اینٹھ یا شرط یہ ہے کہ سب یہ عہد کریں کے پورا سچ بولیں گے اور اپنے اپنے حصے کا کام ایمانداری اور دیانت داری سے کریں گے۔ اللہ نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا ہے کہ وہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کو تیار نہ ہو۔

thanks & regards

Abdul Quayyum Khan Kundi
facebook.com/Abdul.Quayyum.Kundi
twitter.com/aqkkundi

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles