04202019Headline:

نیا نظام صدارتی ہوگا یا پارلیمانی

جب سے میں نے نئے نظام کی تعمیر کی بات شروع کی ہے کچھ دوستوں کا یہ خیال ہے کہ میں در پردہ طور پر ان لوگوں کا حامی ہوں جو ملک میں صدارتی نظام لانے کیلئے سرکردہ ہیں- ان کا خیال ہے کہ میں ان کا آلہ کار بن رہا ہوں اور صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے ذہن سازی کر نے میں ان کی مدد کر رہا ہوں- یہ ایک حقیقت ہے کہ کچھ بااثر کالم نگارصدارتی نظام کی حمایت میں لکھ رہے ہیں- کچھ اخباروں نے یہ بھی خبر دی ہے کہ اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں اس صدارتی نظام کے خدوخال بھی تیار ہو رہے ہیں- مگر میرا اس تحریک سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی میری یہ حتمی رائے ہے کہ صدارتی نظام ہی ہمارے لیئے بہتر ہے-

میری نظر میں منتخب اداروں کا ڈھانچہ ایک ضمنی مسئلہ ہے اور اس پر بحث کرنے کے بجائے موجودہ نظام کے بنیادی نظریاتی اور سیاسی مسائل پر توجہ دینی ضروری ہے- پارلیمانی اور صدارتی دونوں جمہوریتوں میں کچھ خوبیاں اور خامیاں ہیں- کئی ممالک میں صدارتی نظام کافی کامیاب ہے جیسے کہ امریکہ جب کے کچھ اور ممالک میں پارلیمانی نظام معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن بنا- انگلستان اور جرمنی اس کی اچھی مثالیں ہیں- کچھ اور ممالک میں مخلوط نظام ہے جس میں صدر اور پرائم منسٹر کے درمیان اختیارات کو تقسیم کیا گیا ہے جیسے کے فرانس اور روس- پاکستان کا المیہ یہ ہے کے ہم ان سارے طریقوں کو آزما چکے ہیں مگر کوئی بھی ساخت ہمارے ملک کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے- عوام مسلسل اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں جبکے بااثر لوگ ہمارے ہر دور میں فائدے اٹھاتے رہے ہیں-

میری نظر میں اصل مسئلہ یہ ہے کے کسی سیاسی نظام کی بنیاد جس آئین پر ہو اس میں کچھ خصوصیات لازمی ہیں جن کی غیر موجودگی میں ایک مضبوط، مستحکم، اور خوشحال قوم کی تعمیر ناممکن ہے- پاکستان کا موجودہ نظام سیاسی سائنس کے قوانین اور اسلام کی روح کے منافی اصولوں پر بنا ہے جس کی وجہ سے یہ کبھی پاکستانی قوم کی تعمیر اور ترقی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا- میں اس فیصلے پر بہت غور اور فکر کے بعد پہنچا ہوں- یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترامیم کے ذریعہ آئین کی ان خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے- کافی عرصے تک میں اس بات پر قائل تھا کے ایسا ممکن ہے مگر اب میں یہ بات کہنے پر مجبور ہوں کے موجودہ آئین سے کسی قسم کی امید لگانا وقت کا ضائع ہو گا- نظام میں خرابی اتنی زیادہ ہے کہ صرف ترامیم سے بہتری نہیں آ سکے گی- ہمیں ایک نئے نظام کی تعمیر پر تفصیلی اور گہری نظر ڈالنی چاہیے-

ہر معاشرے میں مختلف طبقوں اور قومیتوں میں مقابلے کا رجحان پایا جاتا ہے- اسی طرح بااثر لوگ اپنے مفاد کیلئے نظام کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں- جب آئین اور اس کے ماتحت منتخب اور غیر منتخب اداروں کو تشکیل دیا جاتا ہے تو آئین ساز اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنے بنیادی مسائل پر یکجہ ہوں اور بااثر طبقے کو اپنی عددی اکثریت سے اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں-معاشرے کی مختلف بنیادوں پر تقسیم ہمیشہ بااثر طبقات کے فائدے میں رہتی ہے۔ آئین اس بات کا تو ضرور خیال رکھے کے ہر شہری اپنی پہچان کھونا نہیں چاہتا مگر اس بات کو زیادہ اہمیت دے کہ انسانی مسائل کا لسانی یا گروہی تشخص سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے ۔ بھوک ہر انسان کو لگتی ہے چاہے وہ کوئی بھی علاقائی تشخص رکھتا ہو- نظام کو اس بات کی بھی ترویج دینی چاہیے کے مختلف طبقات آپس میں ملکر اسلیے ایک قوم بننا چاہتے ہیں تاکہ وہ ایک ایسے مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھیں جو اندرونی اور بیرونی منقسم قوتوں کو کامیاب نہ ہونے دے- ایک ایسا نظام جو تقسیم در تقسیم پر قائم ہو نہ صرف اندرونی بلکے بیرونی قوتوں کو بھی اپنے مزموم مقاصد حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے- ایک اچھے نظام کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مملکت کے مختلف اداروں میں طاقت کی جنگ میں ایک توازن قائم کرے اور اگر کوئی بھی ادارہ اپنے آئینی حدود سے تجاوز کرے تو عوام کو وہ طاقت دے کے وہ اس کے خلاف عمل اٹھا سکے-

نئے نظام کی تعمیر کرتے ہوئے سب سے اہم نقطہ جو ہمارے مدنظر ہونا چاہئے یہ ہے کے ذات، پات اور مذہب سے بالاتر ہو کر ہم سب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم پاکستانی شناخت کو ہر چیز پر بالا دست سمجھتے ہیں اور ان تمام قوتوں کے خلاف ہیں جو ہم میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کریں- ہم یہ سمجھتے ہیں کے ایک دوسرے کے ساتھ ملکر ہی ہم کامیاب معاشرہ بن سکتے ہیں- مگر ہاں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ایک نظریہ کو اپنائیں جس کی بنیاد انصاف، اخوت، باہمی عزت، اتحاد، اور محبت پر مبنی ہو- اس کے بعد اگلا مرحلہ یہ آئے گا کہ حکومت کا ڈھانچہ کس قسم کا ہوگا-دوسرے مرحلے میں اس پر غور ہوگا کہ کیا صدارتی نظام ہمارے لیے بہتر ہے یا پارلیمانی- میں سمجھتا ہوں موجودہ نظام ایک متحد، خوشحال، اور ترقی پسند پاکستان کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے اور ہمیں اب ایک نئے نظام کی تعمیر پر کام شروع کرنا چاہیے-

Asad Umar three gaps:
Imran Khan and most members of his cabinet have a condescending attitude. It is because of this it is really difficult to have an intelligent discussion with them on policy matters. According to a good friend that is also close to Imran Khan, there seems to be a malfunction in their ears.

While presenting the government economic plan, Finance Minister Asad Umar stated that the focus is to work on three gaps between revenue & expenditure, export & imports, and savings & investments.

Who could disagree with that? But does the government actions convey that they are trying to bridge these three gaps? Revenue has declined while expenditure has increased substantially because of the devaluation of rupee resulting in higher debt servicing. Amnesty schemes are also anathema to growing revenue. Circular debt and funding of sick public enterprises are still sucking a lot of money. This means revenue and expenditure gap has increased. Exports have not increased as much as was promised when devaluation was done and imports have gone down because of the slowing economy. Our product mix is also a hindrance in our export growth. Savings are impossible when inflation is so high and the cost of living rises faster than income. People would rather prefer to spend today rather than tomorrow when things are more expensive.

I agree with Asad Umar to work on the three gaps but it seems his government has no idea how to do it. Pretty speech and catchy phrases in itself does not solve anything.

thanks & regards

Abdul Quayyum Khan Kundi
facebook.com/Abdul.Quayyum.Kundi
twitter.com/aqkkundi

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles