08242019Headline:

موجودہ نظام کی کمزور بنیادیں & Removal of Asad Umar – Abdul Quayyum Khan Kundi

ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کے عمران خان اور ان کی ٹیم اس قابل نہیں ہیں کے اس ملک کی باگ ڈور سنبھال سکیں- ان کی ناکامی ایک دفعہ پھر یہ ثابت کر رہی ہے کہ تیسرا امپائیر ہمیشہ انتخاب میں غلطی کرتا ہے اور موجودہ نظام کی کمزوریوں کو اپنے مفاد میں استعمال کرتا ہے- جب سے میں نے موجودہ نظام کو رد کر کے ایک نئے نظام کے تعمیر کی بات شروع کی ہے تو بہت سے لوگ اس نظام کی حمایت میں لکھ رہے ہیں- مگر ان مضامین میں موجودہ جمہوریہ کی خوبیاں بیان کرنے کے بجائے ان کی تحریروں میں یہ خوف ہے کہ اس نظام کو بدلنے سے کہیں حالات اور خراب نہ ہو جائیں- یقیناً ان کا خوف بے جا نہیں مگر کیا ناکامی کے خوف سے ایک ناکارہ نظام کو جاری رہنا چاہئے- دوسری طرف وہ سیاسی پارٹیاں ہیں جو جمہوریت سے گروہی فائدے تو اٹھاتی رہی ہیں مگر عوام کو کچھ نہیں دے سکیں وہ بھی اس نظام کا دفاع کر رہی ہیں- تیسری طرف عمران خان کی نااہل ٹیم ہے جو صدارتی نظام کے پیچھے چھپنا چاہتی ہے اور اپنی ناکامی کا قصور وار نظام کو گردانتی ہے- کیا عمران خان کو ۲۲ سال میں بھی پتہ نہیں چلا کے نظام خراب ہے؟ عمران خان نے صدارتی نظام کے قیام کے مطالبے پر الیکشن کیوں نہیں لڑا؟ عمران خان کامیاب نہیں ہوسکتا چاہے وہ پارلیمانی نظام ہو یا صدارتی کیونکہ ان میں نہ قائدانہ صلاحیتیں ہیں اور نہ ہی انتظامی-

میں موجودہ نظام کو اسلئے بھی ناکام سمجھتا ہوں کیونکے اس کی جڑیں عوام میں نہیں ہیں- ۱۹۷۰ کا الیکشن کس آئین کے تحت ہوا؟ کسی آئین کے تحت نہیں ہوا بلکے ملٹری ڈکیٹر کے جاری کردہ ایل ایف او کے تحت ہوا- یعنی جو اسمبلی وجود میں آئی اس کے اصول تیسرے امپائر نے لکھے- جب الیکشن ہو گیا تو نتیجہ پسند نہ آیا اور اسمبلی کا اجلاس نہ ہو سکا- مگر بات صرف یہاں نہ رکی اور حالات اس قدر خراب ہوئے کہ پاکستان کا جغرافیہ ہی بدل گیا اور ہمارا مشرقی حصہ ہم سے جدا ہوگیا یعنی ایک طرح سے جس ملک میں ۱۹۷۰ کا الیکشن ہوا تھا اس کی جگہ ایک نیا پاکستان ظہور پزیر ہوا- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نئے ملک میں نئے انتخابات کیوں نہ ہوئے-

چلیں آگے بڑھتے ہیں- اس نئے ملک میں پیپلز پار ٹی سب سے بڑی جماعت تھی اور اس نے باقی پارٹیوں کے ساتھ ملکر ایک آئین لکھا- اس آئیں کی نظریاتی اساس کس بنیاد پر تھی اس کا آج تک کسی کو پتہ نہ چلا- نہ یہ نظام سیکولر ہے اور نہ ہی اسلامی البتہ یہ ضرور ہوا کہ ہمارے معاشرے کو کئئ گروہوں میں بانٹ دیا گیا- ضوابط اور تنظیم ایسی رکھی گئی کے تمام گروہ ایکدوسرے کے ساتھ الجھے رہیں اور کبھی قومی استحکام پیدا نہ ہو- یہ بات بھی غور طلب ہے کے اس آئین کیلئے ایک ریفرنڈم کے ذریعے عوامی منظوری کیوں نہ لی گئی- اس میں ایسی کونسی رکاوٹ تھی کے عوام کی مرضی اور تائید کے بغیر ایک آئین لاگو کر دیا گیا-

جب آئین بن چکا تھا تو اس کے تحت نئے الیکشن کیوں نہ کرائے گئے تاکہ نئے آئین کے تحت حکومت قائم ہو سکے- میں یہاں آپ کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کے میں آئین بنانے والوں کی نیت پر شبہ نہیں کر رہا مگر موجودہ نظام جس عمل اور ارتقائی مراحل سے گزرا ہے اس سے یہ بات واضع ہے کہ اس کی بنیادیں عوام میں نہیں ہیں اور اس میں کچھ ایسی نظریاتی اور انتظامی خرابیاں ہیں کہ اس نظام سے بہتری کی امید رکھنا وقت کا ضیاع ہے- آج ہمارے پاس ستر سال کا سیاسی تجربہ ہے جسے استعمال کرکے ہم ایک بہتر دوسری جمہوریہ کی تعمیر کر سکتے ہیں- اس میں سب کو حصہ ڈالنا ہوگا مگر اس موقع کو ہمیں عمران خان اور تیسرے امپائر کی آمرانہ نظام کے قائم کی کوشش سے بھی بچانا ہوگا- اگر ہم نے اصل تبدیلی کا یہ موقع ضائع کر دیا تو ہم اگلے کئئ دھایئوں تک دائروں میں گھومتے رہیں گے اور ترقی نہیں کر سکیں گے-

Removal of Asad Umar:
An important quality of a successful politician is to be ambitious. I support ambition but oppose blind ambition as it is too self-centered. Asad Umar pursues the blind ambition. When he joined PTI I advised him to leave Engro behind and take a nationwide trip to familiarize himself with youth. Instead, he took a trip to Bani Gala and made circles around Imran Khan. After the 2013 general elections, I advised him not to become an MNA and instead focus on building party organization as there was a good chance party would form government in 2018. Instead, he became MNA and acted like a high school kid on the assembly floor targeting government with his tongue-twisting statements. He was unfit to be Fin Min and it was only a matter of time before 3rd Umpire realizes their mistake. Asad Umar became Fin Min considering it as a stepping stone to become PM. He declined another cabinet position to avoid the perception of demotion and keep his future prospects alive.

I had sent all of you my statements a few weeks ago that Asad Umar is only fit to be head of BOI or Ministry of Commerce. Shah Mehmood is also misplaced and will be better suited to be Interior Minister. Foreign affairs are practically run by Gen Bajwa. There are many more misfits in the cabinet and expect more chaos going forward.

With the cabinet shuffle, Imran Khan once again proves me right that he is the protector of corrupt. Cult followers of IK were thumping their chest when Azam Swati was removed from the cabinet because of land grab allegations. He is back in the cabinet with the full support of IK. Enjoy the fake tabdeeli as long as it lasts.

thanks & regards

Abdul Quayyum Khan Kundi
facebook.com/Abdul.Quayyum.Kundi
twitter.com/aqkkundi

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles