05272019Headline:

عمران خان کی ناکام کپتانی کی وجوہات- عبدالقیوم خان کنڈی

عمران خان میں بہت سی خوبیاں ہیں جیسے انتہک محنت، لگن اور یکسوئی کے ساتھ کسی مقصد کے حصول کیلئے جدوجہد- یہی وجہ ہے کہ زندگی کے کئی شعبوں میں انہوں نے کامیابی حاصل کی- مگر عمران خان میں کچھ ایسی کمزوریاں بھی ہیں جس کی وجہ سے میں نے ہمیشہ یہ بات کہی کے ان میں قائدانہ اور انتظامی صلاحیتیں نہ ہونے کے برابر ہیں-

عمران خان نے تمام عمر کبھی کوئی نوکری نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی ادارے کو چلایا- اسی وجہ سے انتظامی معاملات کے بارے میں نہ انہیں کچھ علم ہے نہ ہی کوئی تجربہ- یہی وجہ ہے کہ وہ ۲۲ سال میں بھی پی ٹی آئی کو ایک تنظیم نہ بنا سکے- جب میں نے پارٹی میں شرکت اختیار کی تو ایک چیز جس میں کسی حد تک پارٹی کی مدد کر سکتا تھا وہ یہی تھا کہ پارٹی کی تنظیم سازی میں حصہ لے سکوں- پارٹی کی سنٹرل ایکزیکٹو کے کئی اہم لوگوں سے میں مسلسل رابطے میں رہا اور انہیں تنظیم کی تعمیر میں مشورے دئے- پرائیوٹ کفتگو میں یہ لوگ مشوروں سے اتفاق کرتے رہے مگر جب پوچھو کہ عمل کیوں نہیں ہوا تو جواب ہمیشہ یہی ملا کے خان صاحب کی سمجھ میں نہیں آئے- مگر میں سمجھتا ہوں کہ پارٹی کی تنظیم نہ بننے کے سب سے بڑے قصوروار سنٹرل ایکزیکٹو کے ممبر تھے جو کبھی خان صاحب کے سامنے ڈٹ کر کھڑے نہ ہوئے اور ہمیشہ اسی کوشش میں رہے کہ خان صاحب ان سے ناراض نہ ہوں- ان کی نظر ہمیشہ عہدوں پر رہی اور پارٹی ثانوی حیثیت میں رہی-

عمران خان کی دوسری بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ مردم شناس نہیں ہیں اور ہمیشہ آدمی کو پہچاننے میں غلطی کرتے ہیں- وہ خاص طور پر امیر لوگوں سے جلدی مرعوب ہو جاتے ہیں اور انہیں کھونا نہیں چاہتے- ٹیکنوکریٹ بھی انہیں وہی پسند ہیں جو مشہور ہوں- اگر کوئی ٹیکنو کریٹ اپنی مارکیٹنگ نہیں کر سکتا تو وہ خان صاحب کی نظر میں فیل ہے- موجودہ کابینہ میں بھی آپ کو قابلیت سے زیادہ امیر اور مشہور لوگ ملیں گے- اسد عمر مشہور بھی تھے اور امیر بھی مگر ان میں فنانس منسٹر بننے کی صلاحیت کبھی بھی نہیں تھی۔ اسد عمر کی ناکامی دراصل عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پر ایک سوالیہ نشان ہے اور انہیں قوم کو بتانا چاہیے کن صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ اسد عمر کو فنانس منسٹر کے طور پر پیش کرتے رہے- باصلاحیت لوگوں کو محنت کر کے ڈھونڈنا پڑتا ہے اور پھرانہیں یہ اعتماد بھی دینا پڑتا ہے کے ان کے فیصلوں کو پوری حمایت اور تائید حاصل ہوگی تاکہ وہ اپنے صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کریں اور عوام کے مسائل حل کرنے والے اقدامات کریں- عمران خان اور تیسرے امپائر دونوں میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ قابلیت کو پہچان سکیں اور انہیں کام کرنے دیں-

عمران خان کی تیسری بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ٹیم کی تربیت اور صلاحیت میں اضافہ پر نہ کوئی توجہ دی اور نہ اسے اہمیت دی- ۲۰۱۳ کے بعد پی ٹی آئی میں ایک مرکزی تربیتی کونسل بنائی گئی جس میں میرے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ میں اس تربیتی پروگرام کا مواد اور پروگرام تشکیل دوں- ہم نے ایک تین سطحی پروگرام بنایا- پہلی سطح پر پارٹی تنظیم چلانے کی تربیت، دوسری سطح پر بلدیاتی نظام چلانے کی تربیت اور تیسری سطح میں منتخب نمائندوں کی گورننس اور پالیسی تربیت اس پروگرام میں شامل تھی- مگر اس تربیتی کونسل کو عمران خان کی حمایت کبھی حاصل نہ ہوئی اور بارہ دفعہ درخواست کے باوجود بھی اس کونسل کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہو سکا- اس وقت کے جنرل سکریٹری جہانگیر ترین تھے جو خان صاحب کو بس یہی کہتے رہے کہ میں ہوں نا آپ بے فکر رہیں- آج جہانگیر ترین نااہل ہو چکے ہیں، پارٹی میں حکومت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور تیسرا امپائر خان صاحب کو ٹیکنو کریٹ ڈھونڈ ڈھونڈ کر دے رہا ہے جن سے مجھے ملکی مسائل حل کرنے کی کوئی امید نہیں-

عمران خان کی چوتھی بڑی کمزوری یہ ہے کہ صبح سے لیکر شام تک اگر ان کی تعریف میں قصیدے نہ کہے جائیں تو انہیں مزا نہیں آتا- قابل اور کام کرنے والے لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہو تا کہ وہ اپنا سارا وقت تعریفوں میں صرف کریں-میں آپ کو کئی ایسے قصے بتا سکتا ہوں جو اس بات کو ثابت کریں مگر بات لمبی ہو جائے گی- یہی وجہ ہے کہ فیصل واوڈا، علی امین گنڈاپور اور ایسے بہت سے خوشامدی جمع ہو گئے ہیں جو صرف یا تو خوشامد کر سکتے ہیں اور یا غیر سنجیدہ بیان دے کر شرمندگی کا باعث بن سکتے ہیں- مگر مسئلہ یہ ہے کے تیسرے امپائیر کو بھی خوشامدی بہت پسند ہیں- یعنی یک نہ شد دو شد-

میں آپ سب کو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ موجودہ نظام ناکام اور بوسیدہ ہے-اب ہمیں ایک نئی جمہوریہ کی تعمیر پر کام شروع کرنا چاہیے- مگر اگر موجودہ حکومت کو کامیاب کرنا ہے تو تیسرے امپائیر کو وزیر نہیں کپتان بدلنا پڑے گا کیونکے موجودہ کپتان میں نہ قائدانہ صلاحیتیں ہیں اور نہ ہی انتظامی- یہ شاید ممکن نہ ہو اسلئے کے تیسرے امپائر کی خوشامد کرنے میں خان صاحب کا کوئی ثانی نہیں- عوام کے پاس دو راستے ہیں یا تو مزید تکلیفیں برداشت کریں اس امید پر کے کپتان کچھ کرے گا ان کیلئے یا نئی جمہوریہ کی عوامی تحریک کیلئے ہماری کال کیلئے تیار رہیں-

thanks & regards

Abdul Quayyum Khan Kundi
facebook.com/Abdul.Quayyum.Kundi
twitter.com/aqkkundi

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles