06162019Headline:

عمران خان کی صدارتی نظام کی ضد- عبدالقیوم خان کنڈی

اردو کا ایک مشہور محاورہ ہے ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا- عمران خان لگتا ہے اپنی ساری سیاست اسی مقولے کی بنیاد پر کرتے ہیں- ان کے مشہور یو ٹرن اسی بات کے گواہ ہیں- معیشت کیوں نہیں چل رہی پچھلی حکومت کا قصور ہے- بی آر ٹی کیوں مکمل نہ ہوئی اور اس میں کرپشن ہے اس کا سارا قصور اے ڈی پی کا ہے – پنجاب میں حکومت کیوں نہیں چل رہی اسلئے کہ بیوروکریسی کام نہیں کر رہی- گڈکورننس کیوں نہیں ہے اسلئے کے کرپشن بہت ہے- غرض یہ کے سارے آنگن ٹیڑھے ہیں عمران خان اور ان کی کابینہ کی نااہلی کا کوئی ذکر نہیں ہونا چاہیے-

عمران خان کو پارلیمان اب نہیں ہمیشہ سے بری لگتی ہے- حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اور ان کا قبائلی گروہ فسطائیت اور آمرانہ خیالات کے پروردہ ہیں اور اسی وجہ سے بائیس سالہ جدوجہد میں ہمیشہ تیسرے امپائر کے ایجنڈے پر چلتے رہے- پچھلے دور میں وہ اسی پارلیمان کو چور اور ڈاکو کہتے تھے مگر چونکہ اب وہ سارے چور یعنی لوٹے ان کے پاس آ گئے ہیں اسلئے پارلیمان کو چور تو وہ نہیں کہہ سکتے مگر اب وہ اس سے بیزار ہیں اور صدارتی نظام چاہتے ہیں-پالیسی اختلاف اور طاقت میں شراکت نہ انہیں قبول ہے نہ ان کے سب سے بڑے سپورٹر تیسرے امپائر کو- یہ خلق خدا کی آواز کو مکمل دبانا چاہتے ہیں اور ملک پر بلا شرکت غیرے حکومت کرنا چاہتے ہیں- ان کی پچھلے نو ماہ کی نااہلی اور بدعنوانی دیکھ کر خطرہ یہ ہے کہ ملک کو یہ تباہی کے دہانے پر لے جائیں گے-

ہماری نئی جمہوریہ کے قیام کی بات کا عمران خان اور تیسرے امپائر کی طاقت کے ارتقاز کی خواہش میں ذہین اور آسمان کا فرق ہے- ہمارا مقصد ایک بالکل نئے نظام کی تعمیر ہے جبکہ عمران خان اور ان کے حامی موجودہ نظام کو آمرانہ شکل دینا چاہتے ہیں- تمام سیاسی جماعتیں موجودہ نظام سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں اسی لئے وہ موجودہ پارلیمانی نظام پر قائم جمہوریہ کا تسلسل چاہتے ہیں تاکے اس طاقت میں شراکت دار رہیں- مگر عوام کیلئے اس نظام میں کچھ کشش نہیں ہے اسلیئے صرف وہی نقصان میں ہیں جبکے تمام بااثر طبقات فائدے میں ہیں-

تمام سول سوسائٹی اور بار ایسوسیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایک آمرانہ صدارتی نظام کے نفاذ کا راستہ روکیں جس کا مقصد عوام کی بھلائی نہیں بلکے ذاتی سیاسی مقاصد کا حصول ہے- انہیں اب ایک نئے نظام کی تعمیر کیلئے تیار رہنا چاہئے اور موجودہ نظام کی کشمکش ان کیلئے چھوڑ دیں جو پچھلے ستر سال سے اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں- یہ وہی لوگ ہیں جو عوام کو مشورہ دے رہے ہیں کہ دو نہیں ایک روٹی کھاؤ مگر اپنی دولت جمع کرنے کی حوص اتنی ہے کہ ذکات کے پیسے تک نہیں چھوڑتے اور بچوں کے اسکول کا بجٹ تک کھا جاتے ہیں-

thanks & regards

Abdul Quayyum Khan Kundi
facebook.com/Abdul.Quayyum.Kundi
twitter.com/aqkkundi

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles