08222019Headline:

کرپشن اور نااہلی کا ملاپ ۔ عبدالقیوم خان کنڈی

پرائم منسٹر عمران خان اپنی ہر تقریر کا آغاز اور اختتام کرپشن پر کرتے ہیں مگر کیا صرف یہی ایک وجہ ہے جس سے ہم بدحالی کا شکار ہیں- کرپشن یقیناً ایک اہم مسئلہ ہے مگر اس سے بڑا مسئلہ نااہلی ہے جس کی وجہ سے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے اور عوام کو اس کا بھی بوجھ اٹھانا پڑتا ہے- پاکستان کے کسی گاؤں، تحصیل یا ڈسٹرکٹ میں چلے جائیں آپ کو بے تحاشا اسے نامکمل اسکول، صحت کے مراکز اور سرکاری املاک ملیں گی جو صرف کاغذوں میں مکمل ہوئی ہیں- ان تمام پروجیکٹ میں عوام کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن مقامی ایم این اے، ایم پی اے، ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور کنٹریکٹر اپنی جیبیں بھرنے میں کامیاب رہے- پشاور کا بی آرٹی پروجیکٹ بھی ان میں سے ایک ہے جو نہ صرف کرپشن بلکہ نااہلی کی بھی ایک مثال ہے-

میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کے عمران خان کرپشن کے خلاف کچھ نہیں کر رہے بلکے اسے صرف سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں- کیونکہ اگر وہ کرپشن کے خلاف ہوتے تو کرپٹ لوگوں کو اپنے ساتھ شامل نہ کرتے اور اگر شامل کرنا ایک مجبوری تھی تو کم از کم انہیں وزارتیں نہ دیتے- اب تک عمران خان کی ٹیم کے پانچ ارکان کرپشن کے الزامات کی وجہ سے نکالے جاچکے ہیں- اب عمران خان نے ایسے لوگوں کو سرکاری املاک کی فروخت کی کمیٹی میں ڈالا ہے جن پر کئئ بدعنوانی کے الزامات ہیں-

مگر کرپشن ہی نہیں عمران خان کی ٹیم میں قابلیت کا بھی شدید فقدان ہے- وزیر خارجہ اسی میں خوش ہیں کے راولپنڈی والے نہ صرف پالیسی بنا رہے ہیں بلکہ اس پر عمل بھی خود ہی کر رہے ہیں- وزیر خزانہ پچھلے آٹھ مہینہ میں غریب اور تنخواہ دار طبقہ کی کمر بے انتہا مہنگائی سے توڑ چکے ہیں- عوام کو وہ کہتے ہیں قربانی دو مگر امیر طبقات کو کئی سو ارب کا فائدہ پہنچا چکے ہیں- وزیر تیل اور گیس عوام کو بھاری بھرکم بل بھیج کر خراد وصول کر رہے ہیں اور مشورہ دے رہے ہیں کے گیزر استعمال نہ کریں- وزیر داخلہ خود عمران خان ہیں اور اپنا زیادہ وقت وہ مخالفیں کو جیلوں میں بھجوانے میں صرف کرتے ہیں- پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کمیٹی میں تقریباً سارے لوگ بڑے بلڈر ہیں یعنی گھوڑے سے کہہ رہے ہیں گھاس سے دوستی کر لے- پچھلے آٹھ مہینے میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کے عمران خان کی ٹیم کرپشن اور نااہلی کا ملاپ ہے اسلئے کے انہوں نے ۲۲ سال میں کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کریں اور ایک نئی قیادت کی تربیت کریں-ان کا سارا زور اس بات پر رہا کہ تیسرے امپائیر کی حمایت انہیں حاصل ہو جائے- اب امپائیر ہی سے کہیں کے حکومت چلائے ۔

اس حکومت کی ناکامی اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ موجودہ نظام صرف امراء کیلئے ہے اور اس میں عوام کی حیثیت صرف غلاموں جیسی ہے- اس نظام میں ہم ہر طریقہ استعمال کر چکیں ہیں تاکہ قوم آگے بڑھے مگر چونکہ نظام ہی غلامانہ ہے اسلئے ہر ادارہ اپنا کام کرنے میں ناکام ہے-عمران خان اس نظام کی ایک آخری کوشش تھی کے عوام کا اعتماد بحال کرے مگر وہ بھی ناکام رہے- اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک نئے نظام کی تعمیر کی جائے جو صرف عوامی تحریک سے عمل میں آئے-

thanks & regards

Abdul Quayyum Khan Kundi
facebook.com/Abdul.Quayyum.Kundi
twitter.com/aqkkundi

Popular posts on our network:

What Next?

Related Articles